قبر کا احوال اور حقیقت


qabar 1

عجیب بات ہے کہ انسان کی آنکھ بند ہوتے ہی قریبی عزیزوں اور محبوب ترین ہستیوں ،محبت کرنے والوں اور جان نجھاور کرنے والوں پر ایک ہی دُھن سوار ہوجاتی ہے کہ جلد ازجلد اس لاش کو قبر کے گڑھے میں اتار دو۔یہاں سے آگے ایک نئی ہی دنیا شروع ہوتی ہے۔کچھ خوش قسمت ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جن کی قبر کو کشادہ کرکے اس میں روشنی کردی جاتی ہے اور جنت کی طرف ایک کھڑکی کھول دی جاتی ہے اور قبر میں انہیں ایک رفیق عطا کردیا جاتا ہے۔انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ احباب ابھی اسے قبر میں ڈال کر پلٹے ہی ہوتے ہیں کہ وہ قبر میں زندہ ہوجاتا ہے۔قبر کی وحشت و ویرانی ایک لمحے میں اس کے اوسان خطا کردیتی ہے۔ اس کا دم گھٹنے لگتا ہے،اسے یاد آتا ہے کہ وہ رات کو اپنے گھر کے کشادہ بستر پر سویا تھا۔یہ کیا کہ لوگ اسے اس گڑھے میں ڈال کر چلے گئے۔جو خوش قسمت ہوتا ہے وہ کیا دیکھتا ہے کہ اس کی قبر میں ہلکی ہلکی روشنی پھیلنی شروع ہوگئی ہے اور اسے اس چھٹتے ہوئے اندھیرے میں سے ایک ہیولا نمودار ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔اس دہشت ناک منظر کا بہترین پہلو یہ ہے کہ یہی ہیولا دوست بن جاتا ہے اور قبر کی تنہائی میں ایک رفیق کی طرح ساتھ دیتا ہے اور دلجوئی کرتا ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ کون سوچتا ہے کہ وہ کبھی مر جائے گا حالانکہ حقیقت حال یہ ہے کہ سب ساتھی ایک ایک کرکے مررہے ہیں اور یہ خیال تو ہے ہی اداس کرنے والا کہ ہمارے شہر کے کتنے افرادہیں جن کی عمریںسوبرس یا اس سے زائد ہوں گی۔جب آج پورے شہر میں کسی ایک فرد کی عمربھی مشکل سے 100برس ہوگی تویہ بات وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی 100 برس کے بعد مشکل سے ہی زندہ ہوگا۔جن کی عمریں 30سال ہیں وہ 70برس کے بعد جن کی عمریں 50برس ہیں وہ پچاس برس کے بعد اور جن کی عمریں 70برس ہیں وہ 30برس کے بعد یہاں نہیں ہوں گے بلکہ اپنی آخری آرام گاہ میں استراحت فرما رہے ہوں گے یہ استراحت کا لفظ میں نے کوئی طنزاً استعمال نہیں کیا بلکہ یقینا ہم اپنی اس زندگی کو استراحت والی زندگی بنا سکتے ہیں جوزندگی ہم نے قبر میں گزارنی ہے۔
ہمارے مرنے کے بعد ہماری دنیا کا تو یقینا یہ حال ہوگا کہ جو کچھ ہم نے کمایا،بچایا اور بنایا ہوگا وہ یا تو وارثوں میں تقسیم ہوچکا ہوگا یا اس پر کسی نے غاصبانہ قبضہ کرلیا ہوگا، جس مکان کو بنانے کے لیے آج آپ بھرپور محنت کررہے ہیںوہ ختم ہوچکا ہوگا اور اگرباقی بھی رہا تو آپ کانہیں ہوگا۔ کوئی اورمائی کا لال آپ کے مکان میں بڑے مزے سے رہ رہا ہوگا اور آپ کی کمائی پر عیش کررہا ہوگا اور اسے یاد بھی نہیں ہوگا کہ اس مکان کی تعمیر میں کس شخص نے اپنا کثیر سرمایا لٹایا تھااوراپنی عمر کے بہت سے قیمتی سال اس مکان کو بنانے سجانے اور سنوارنے میں کھپادیے تھے۔ اُس وقت جب کہ آپ کے بنائے ہوئے مکان میں کوئی زندگی کے مزے لوٹ رہا ہوگاتوآپ کا جسم قبر میں پڑا سڑ رہا ہوگا اس کا گوشت کیڑے مکوڑے کھاچکے ہوں گے اور بوسیدہ ہڈیاں قبر کی ویرانی کو چار چاند لگا رہی ہوں گی۔ اگر آپ کا خیال ہے کہ میں تومرچکا ہوں گا میری بلا سے میرے جسم کے ساتھ کیا ہوتا ہے اسے کیڑے کھاتے ہیں یااس پر سانپ حملہ آور ہوتے ہیں ۔مجھے کیا فرق پڑتا ہے؟ آپکو یہ سوچ رکھنے کا پورا حق ہے لیکن یہ سوچ ہادی برحق کے بہت سے فرامین سے مطابقت نہیں رکھتی جس طرح انہوںنے قبر اور اس کے بعد کے حالات کا منظر پیش کیا ہے۔ وہ کچھ یوں ہے کہ جب دوست احباب اور آل، اولاد کسی شخص کو قبر میں ڈال کر واپس لوٹتے ہیں تو ایک فرشتہ قبر کی مٹی اٹھا اٹھاکر ان واپس پلٹنے والوں کی طرف پھینکتا ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہتا جاتا ہے کہ جاؤ اب تم اس شخص کو بھول جاؤ۔ ادھر دنیا میں تو واقعی یہ حال ہوتا ہے کہ چند دنوں میں لوگ اس شخص کو بھول جاتے ہیںاپنے کام دھندے میں مصروف ہوجاتے ، رونے والے رو دھو کر بھی خاموش ہوجاتے ہیں اور قبر والا دنیا والوں کے دل و دماغ سے محو ہوجاتا ہے۔ بہت کم مرنے والوں کو اب ایسی اولادبھی نصیب ہوتی ہے کہ وہ اپنے بزرگوں اور والدین کے لیے اچھے اعمال کا تحفہ بھیجتی رہے۔ آج کی اولاد کا تو یہ حال ہے کہ وہ بوڑھے ماں باپ سے ان کی زندگی میں ہی تنگ تنگ رہتی ہے۔ ہم نے بہت سے بیٹوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ ان ماں باپ نے ناک میں دم کیا ہوا ہے پتا نہیںکیوں رب تعالی نے انہیں ہماری آزمائش کے لیے زندہ رکھا ہوا ہے۔بہرحال یہ تو حال تھا دنیا کا ادھر قبر میں کیا ہوتا ہے ہادی برحق نے فرمادیا کہ” جو مرا اس کی قیامت تو قائم ہوگئی” اس لیے مرنے والے کے مرتے ہی اس کی قیامت کا مرحلہ شروع ہوجاتا ہے۔ہادی برحق نے یہ بھی فرمایاکہ “قبر یا تو جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے یا جنت کے باغوں میں سے ایک باغ” جب احباب کسی فرد کو دفن کرکے واپس پلٹتے ہیں تو قبر میں اس شخص کی روح اس کے جسم میں واپس ڈال دی جاتی ہے۔ ذرا تصور کریں کہ قبر کی لمبائی چوڑائی کیا ہوتی ہے کوئی چھ فٹ لمبی اور پانچ فٹ اونچی اور اوپر سے پتھر کی سلیں دے کر اور منوں مٹی ڈال کر بند کی ہوئی قبر۔ جس قبر میں انسان سیدھا کھڑا بھی نہیں ہوسکتا اس قبر میں انسان کی آنکھ کھلتی ہے۔ غور کریں جو شخص رات کو ایک بڑے سے مکان کے کشادہ کمرے میں نرم بستر پر سویا تھا لیکن آنکھ اس نے ایک اندھیرے گڑھے میں کھولی ہے۔ جس میں روشنی کا بھی کوئی بندوبست نہیں ہے۔آپ اندازہ کرسکتے ہیں اس شخص کی وحشت اور حسرت کا!! آنکھیں بند کریں اور سوچیں آپکی آنکھ اپنی قبر میں کھل گئی ہے!! اس لیے کہ یہ منظر ایک دن آپ نے دیکھنا ہی ہے ذرا اس کا تصور کرلینے میں کیا حرج ہے؟کہاں وہ وقت کہ اس شخص نے اپنے مکان کو بنانے میں حرام و حلال ایک کیا ہوا تھا رات کو بڑے مزے سے وہ نرم بستر پہ سویا تھا لیکن اب اس کی آنکھ کہاں کھل گئی؟ہادی برحق نے فرمایا دیا ہے کہ ” تم میں سے ہر کوئی ایسے ہی مر جائے گا جیسے تم رات کو سوجاتے ہو اور پھر تمھیں ایسے ہی زندہ کیا جائے گا جیسے تم روزانہ صبح اٹھ جاتے ہو اور پھر تم میں سے ہر ایک کو بدلہ دیا جائے گا اچھے عمل کا اچھا بدلہ اور برے عمل کا برا بدلہ” ہادی برحق نے یہ بھی فرمادیا کہ” نیند موت کی بہن ہے جب تم سوجاتے ہو تو روح تمھارے جسم سے نکل جاتی ہے پھر صرف اس شخص کی روح جسم میں واپس داخل ہوتی ہے جس کورب تعالی واپسی کا حکم دیتا ہے۔” قبر میں جب انسان کی آنکھ کھلے گی تو ایک خوفناک منظر اس کے سامنے ہوگا۔ اندھیرا گڑھا، تنہائی ، اور کیڑے مکوڑے جو انسانی گوشت کی بُو سونگھتے ہی قبر کی طرف زمیں کے اندر ہی اندر سے رینگنا شروع کردیں گے۔ کچھ لوگوں کے ساتھ اس وحشت کے وقت عجیب معاملہ ہوگا۔ ہادی برحق نے فرمایا کہ انسان کی وحشتوں کا ابھی آغاز ہی ہوا ہوگا کہ وہ کیا دیکھے گا کہ ایک خوبصورت نوجوان اس کی قبر میں آموجود ہوا ہے اور اس شخص کے قبر میں آنے سے قبر کا اندھیر ا روشنی میں بدل گیا ہے۔وہ قبر والا آنے والے سے کہے گا کہ اب تم آگئے ہوتوکہیں واپس نہ چلے جانا کہ تمھارے جاتے ہی کہیں پھرمیری قبر تنہا، اندھیری اور وحشت ناک نہ ہوجائے۔ تو آنے والا خوبصورت شخص اسے تسلی دے گا کہ میں آگیا ہوں اب واپس نہیں لوٹوں گا اس سے قبر والے کو بہت حوصلہ ہوگا اور وہ خوش ہوجائے گا اور اب وہ اس آنے والے سے پوچھے گا کہ تم کون ہو تو اس سوال کے جواب میںآنے والا بتائے گا کہ میںقرآنِ مجید ہوں ، اس لیے کہ تم نے مجھے دنیا میں اکیلا نہیں چھوڑاتھا۔ میںقبر میں تمھیں اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔یعنی قرآن مجید اس شخص کو یاد دلائے گا کہ تمھارے معمولات میں زیادہ وقت میرے ساتھ گزرتا تھا، کبھی تم مجھے پڑھ رہے ہوتے تھے، کبھی دوسروں تک میرا پیغام پہنچا رہے ہوتے تھے، کبھی دوسروں کو میری طرف آنے کی ترغیب دے رہے ہوتے تھے، کبھی میری حرام کی ہوئی چیزوں کو چھوڑنے میں اپنے نفس کے ساتھ جنگ کررہے ہوتے تھے اور کبھی تم میرے ذریعے سے دعوت و تبلیغ کررہے ہوتے تھے۔ غرض تم نے زندگی کے ہر شعبے میں ہر لمحے مجھے اپنے ساتھ رکھا ۔ تم نے دنیا میں میرے ساتھ دوستی نبھائی تھی اور میں قبر میں تمھارے ساتھ دوستی نبھاؤں گا تم نے وہاں مجھے اکیلا نہی چھوڑا تھا میں یہاں تمھیںاکیلا نہیں چھوڑوں گا۔

اور تصور کریں جس شخص کا قرآن اس کی قبر میں اس کا ساتھ دینے کے لیے نہیں پہنچے گا۔ اس کی ناامیدی، حسرت اور افسوس کا کیا عالم ہوگا۔جس چیز کا اسے اس وقت سب سے زیادہ افسوس ہوگا وہ یہ ہوگیا کہ کاش جو محنت میں نے اپنے دنیا کے گھر کو روشن، کشادہ اور آرام دہ بنانے کے لیے کی تھی کاش کہ وہ محنت میں اپنی قبر کو روشن اور کشادہ بنانے کے لیے کرتا ۔ لیکن وہ وقت تو صرف افسوس کرنے کا ہوگا لیکن یہ وقت کام کرنے کا ہے۔ اپنا خوبصورت مکان بنانے کے ساتھ ساتھ اپنی قبر کو بھی خوبصور ت و کشادہ اور روشن و ہوادار بنانے کی کوشش کریں۔ صرف یہی کوشش کام آئے گی باقی تمام کوششیں ضائع ہوجائیں گی اور پھر آپکو ہمیشہ رہنے والا افسوس ہوگا۔
دعا ہے کہ قبر کی وحشت ، تنہائی اور اندھیرے کو دور کرنے کے لیے رب کائنات قرآن کو ہمارا ساتھی بنا کر ہماری قبر میں بھیج دے۔قرآن کہتا ہے کہ تم دنیا میں میرے ساتھ دوستی نبھاؤ میں قبر میں تمھارے ساتھ دوستی نبھاؤں گا۔ تم یہاں مجھے تنہا نہ چھوڑو میں قبر میںتمھیں تنہا نہیں چھوڑوں گا۔ذرا سوچیں!آپ نے اپنے گھر میں پڑے ہوئے قرآن کو آخری مرتبہ کب کھولا تھا؟اورکب سے آپ کا قرآن گھر میں تنہا پڑا ہواہے!!!قبر کی تنہائی کا تصور کریں قرآن کو تنہا نہ چھوڑیں۔

qabar 2

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s